رقت آمیز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - رُلا دینے والا، جوشِ گریہ کا محّرک، جاں گداز۔ "گاندھی نے عمارات کی تباہی کا ذکر کچھ اس رقت آمیز لہجے میں کیا کہ خود اُن کی اپنی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے"      ( ١٩٨١ء، قائداعظم اور آزادی کی تحریک، ٧٦ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باس سے مشتق اسم 'رِقّت' کے ساتھ فارسی مصدر آمیختن سے مشتق فعل امر 'آمیز' لگا کر مرکب توصیفی بنایا گیا ہے اردو میں سب سے پہلے ١٨٩٣ء، میں "بست سالہ عہد حکومت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رُلا دینے والا، جوشِ گریہ کا محّرک، جاں گداز۔ "گاندھی نے عمارات کی تباہی کا ذکر کچھ اس رقت آمیز لہجے میں کیا کہ خود اُن کی اپنی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے"      ( ١٩٨١ء، قائداعظم اور آزادی کی تحریک، ٧٦ )